شدّتِ غم تھی یا دیوانگی تھی

یہ غزل 24 جولائی 2011 کو مکمل کی گئی

شدّتِ غم تھی یا دیوانگی تھی، وہ وقتِ  رخصت بے اختیار  روئے
بڑی   مشکل   سے   قرار   آیا ، ہو کے پھر سے بے   قرار  روئے

کہا تھا ہم نے نہیں  سناؤ  کسی کو دکھ  بھری  داستاں  ہماری
بڑا ہی ناز  تھا   ضبط   پہ   جن    کو،   سنا   تو  زارو قطار  روئے

ہنسے  جو  وہ  تو ہر سُو  نغمہ، تپتا   صحرا   بنے   ہے   گلشن
مگر  روئے   تو  فضا  ہو  غمگیں ، چمن      روئے     بہار    روئے

نہ جانے چوٹ کسے لگی  ہے، کون ہے جو  لطف  اٹھا رہا   ہے
میں ہنستا جاتا ہوں زخم  کھا کر، چلا کے مجھ  پہ وہ وار  روئے

مانا کہ بہت مشکل گھڑی ہے، اب ایسی بھی کیا آفت پڑی ہے
غمِ جاناں  ہو  یا  غمِ زمانہ ، ذھن    پر    کر کے    سوار   روئے

زمانہ  بگڑتا  ھی  جا رہا   ہے،  اب  ایسا    وقت   آ گیا    ہے
حشر  ہوا  وہ  انسانیت    کا ،    فرشتے    لیل و نہار    روئے

بہت  برا   ہے معاذ   لیکن،  خدا   سے   نا  امید     نہیں     ہے
اسے جو  موقع ملے کبھی بھی ، اپنے گناہوں  پہ  شرمسار  روئے

Posted in Uncategorized, غزل | Tagged , , | تبصرہ چھوڑیں

دل میرا کٹ گیا ہے ریشم سے

 انٹرنیٹ پر ایک شعر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس شعر کی بنیاد پر ایک غزل حال ہی میں مکمل کی ہے۔

شعر کچھ اس طرح ہے

 

 

شعر کچھ اس طرح ہے

دل   میرا  کٹ  گیا ہے ریشم سے
اس کو سی دو کسی نئے غم سے

  میری غزل

 تو   نے جو پھر سے کیا  ترک تعلق ہم سے
جیتے جی مر جائیں گے ہم خدا کی قسم سے

 تم   نہیں   پاس  تو  جینے  کا مزا ساتھ نہیں
کم  نہیں  اپنے  لیے یہ دنیا  بھی  جہنم  سے

 رات  کی  ٹھنڈی  ہوا  یاد  کو  سلگاتی  ہے
اور  آگ  لگ  جاتی  ہے  صبح  شبنم سے

  اجنبی  اک سر راہ آ کے مجھے ایسے ملا
جیسے واقف ہو میرا کوئی پچھلے جنم سے

 وہ  برھمن  بھی   توحید  کا قائل  ہونے لگا
ہاتھ  کچھ  نہ آیا  جسے  پتھر کے صنم سے

 ہم  کو  دکھ  کے  کوچے  کا پتا معلوم نہ تھا
تم  کیا  گئے  کہ روٹھ  گئیں خوشیاں ہم سے

 لٹ   گئی   دنیا  میری  ہو   گیا  سُونا    آنگن
گھرمیں جو رونق  تھی، تھی تمھارے دم سے

 اپنا  خیال کیجئے  ، معاذ کی  فکر چھوڑئے حضور
وہ خوش ہی نہیں خوشحال بھی ہے الّلہ کے کرم سے


Posted in غزل | Tagged , | تبصرہ چھوڑیں

والدین

یہ کہانی میں نے 15 سال پہلے سب رنگ ڈائیجسٹ میں پڑہی تھی۔ اس کو منظوم کرنے کا خیال چند ہی دنوں پہلے آیا۔ اس نظم کا عنوان ہے “والدین”۔
 

ایک قصّہ مجھے سنانا ہے
کہنے کو بہت پرانا ہے
کچھ سچا ہے، کچھ جھو ٹا ہے
لیکن پھر بھی اس قصّے نے
میرے دل کو لوٹا ہے

ایک دور دراز سے قصبے میں
آخری گلی کے نکّڑ پر
ایک چھوٹا سا گھر تھا
اس چھوٹے سے گھر کے باہر
ایک پرانا برگد تھا
اور سامنے ریل گزرتی تھی

اس چھوٹے سے گھر میں ایک لڑکا
ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا
اور اُ ن دونوں کی بے جا سختی
اپنی دانست میں سہتا تھا
ماں باپ کا وہ اکلوتا
روز ہی ڈانٹیں سنتا تھا
اور اُن کی ضد کے آگے
سر کو اپنے دھنتا تھا

یہ کام کرو، وہ کام کرو
یہ صبح کرو ، وہ شام کرو
بے وقت نا آرام کرو

وہ لڑکا خود بھی ضدی تھا
اور اپنی ضد میں پکّا تھا
ماں باپ کو خوب تنگ کرتا تھا
یوں پھر سختی بڑھتی گئی
اور اُن کی دوری بڑھتی گئی

روز کی بک بک جھک جھک سے
وہ لڑکا آخر تنگ آ ہی گیا
اور اُس نے یہ پھر سوچ لیا
بہتر ھے گھر سے بھاگ چلوں
ماں باپ کے نام پھر خط چھوڑا
اُس خط میں اُس نے یہ لکھا
اس گھر میں اب اپنے لیے
کوئی جگہ نہیں پاتا ہوں
میں اب شہر کو جاتا ہوں

نگری نگری گھوموں گا
میں ساری دنیا دیکھوں گا
کہیں کوئی ٹھکانا پاؤں گا
لوٹ کر اب نہ آؤں گا
اپنی مرضی کا مالک ہوں
اب میں پورا بالغ ہوں

یوں پھر اس لڑکے نے
اپنے گھر کو چھوڑ دیا
بستی سے وہ بھاگ گیا

نئے دور کا پھر آغاز ہوا
اور افشاء اس پر یہ راز ہوا
جینا کتنا مشکل ہے
روز مرنا کس کو کہتے ہیں
زندہ رہنے کی خاطر
کیا کیا اس نے کام کیے
دو وقت کی روٹی پانے کو
کس کس کی اس نے منّت کی
پھٹکار پڑی، دھتکار پڑی
جانے کیسے کیسے لوگوں کی
بے وجہ ہی اس کو مار پڑی

کبھی درخت کے نیچے لیٹا تھا
کبھی بس کے اندر سوتا تھا
ماضی کو اپنے یاد کیے
چھپ چھپ کر پھر وہ روتا تھا
کئی برس یونہی بیت گئے
وقت تھا جیسے روٹھ گیا
پھر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا
اور اندر سے وہ ٹوٹ گیا

کچھ سوچ بچار کے بعد اس نے
ماں باپ کے نام ایک اور خط لکھا
اس خط میں اس نے یہ لکھا
گھر سے باہر آکر میں
جانے کیسے زندہ ہوں
اپنی اس حرکت پر
دل سے میں شرمندہ ہوں
مشکل سے ہمُت پاتا ہوں
میں گھر واپس آنا چاہتا ہوں

پر مجھ کو یہ معلوم نہیں
آپ دونوں کی کیا مرضی ہے
اب آپ اگر یہ چاہتے ہیں
میں گھر میں واپس آ جاؤں
تو گھر کے باہر برگد پر
اک سرخ سا کپڑا لٹکا دیں
میں ریل میں بیٹھ کر آؤں گا
اور گھر کے سامنے برگد پر
گر یہ نشانی پاؤں گا
تو اسٹیشن پر اتروں گا
اور گھر کو واپس آجاؤں گا
ورنہ اپنا ماضی بھول کر میں
گھر کو  کبھی نہ لوٹوں گا

وہ دن بھی  آخر آ ہی گیا
کہ ریل میں بیٹھ کر وہ لڑکا
بستی کی جانب چل نکلا
جوں جوں فاصلہ گھٹتا تھا
دل اس کا بیٹھا جاتا تھا
وہ کھڑکی کے با ہر دیکھنے کی
ہمّت کچھ نہ پاتا تھا

ماں باپ میرے اب کیسے ھیں؟
کیا مجھ کو اب بھی چاہتے ہیں؟
اور اپنے دل میں میرے لیے
کیا کوئی جگہ وہ پاتے ہیں؟
کیا اب تک وہ برگد ہو گا؟
کیا اس پہ سرخ کپڑا ہو گا؟
اور اگر ہوا بھی تو
کیا اس کو دیکھ بھی پاؤں گا؟
یہ سب وہ سوچتا جاتا تھا
دل اس کا گبھراتا تھا

بالاخر اُس ریل نے جب
لمبا سا ایک موڑ لیا
تو ریل میں بیٹھے لوگوں نے
اک عجب نرالا منظر دیکھا
اُس دور دراز سے قصبے میں
ایک چھوٹا سا گھر تھا
اور گھر کے باہر برگد تھا
اس برگد کی ہر ہر ٹہنی پر
ایک سرخ پھریرا لہراتا تھا
اور اس برگد کے نیچے
ایک بوڑھا اور بوڑھی
ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دئیے
گزرتی ریل کے ہر ہر ڈبّے کو
حسرت سے تکتے جاتے تھے
July  18 , 2011

Posted in نظم | تبصرہ چھوڑیں

سرد ھوا

یہ غزل 15 جون 2011 کو لکھی گئی

ایک سرد ھوا کا جھونکا تھا، جو آ کر یونہی چلا گیا
ایک درد سا دل میں اٹھا تھا، تڑپا کر  یونہی چلا گیا

میں جس بستی سے گزرا تھا،وہ دیوانوں کی بستی تھی
میں بستی کے ہر کوچے میں، گبھرا کر  یونہی چلا گیا

میں اپنا ماضی بھولا تھا، یادیں کیا تھیں راکھ کا ڈھیر
ایک لمحہ تھا جو شعلوں کو، بھڑ کا کر  یونہی چلا گیا

مجھے اس کا غم کہ اس کا درد، میں پہلے کیوں نہ جان سکا
وہ شخص تو اپنے دل کے زخم،  دکھلا  کر  یونہی چلا  گیا

جب اتنی عمر گزاری ہے، باقی بھی کاٹ لے یاد میں معاذ
وہ کان میں میرے  چپکے سے، سمجھا کر  یونہی چلا گیا

Posted in غزل | تبصرہ چھوڑیں

کوئی نہ سمجھے ہے یہ بات

یہ غزل 23 جون 2011 کو لکھی گئی

 
کوئی نہ سمجھے ہے  یہ  بات
عشق   نہ  پوچھے کوئی  ذات
 
       دل ہی دوست ہے دل ہی دشمن
جیت   کر ہم  نے کھا ئی   مات
 
جو  تم  کہہ  دو ہم  کو یقیں ہے
 جھوٹی    ہو   یا  سچی    بات
 
 نہ کوئی حرکت نہ کوئی کوشش
  کیسے  بدلیں    گے     حالات
 
درد  دل جو اس  نے   دیا   ہے
وہ   ہے   اپنے   لیے   سوغات
 
کتنی    ظالم    ان    کی  ادائیں
“اور   میرے   نازک   جذبات”
 
آپ   ھی    اپنا    جواب    تھے
اس    کے    سارے    سوالات

 
آہ    یہ       میری       تنہائی
اف   یہ    کتنی    لمبی   رات
 
کیسا       مرنا      کیسا     جینا 
آزاد   اجل    ہے    قید   حیات
 
ان کے  در پر  سر رگڑے  ہے
بس    یہ    معاذ    کی   اوقات
Posted in غزل | تبصرہ چھوڑیں

ہوا میں تازگی کیوں ہے

ایک طویل غزل جو میں نے نیو یارک کے ایک مشاعرے میں پڑھی۔ میرے لیے ایک اعزاز کی بات تھی کہ اس مشاعرے میں امجد اسلام امجد اور انور مسعود موجود تھے. یہ مشاعرہ 8 جولائی 2011 کو جمیکا نیو یارک میں منعقد ہوا.

 ہوا میں تازگی کیوں ہے
فضا میں نغمگی کیوں ہے

زمیں پر دلکشی کیوں ہے
فلک میں روشنی کیوں ہے

دھن میں چاشنی کیوں ہے
بدن میں گدگدی کیوں ہے

لبوں پہ ایک ھنسی کیوں ہے
پلک پہ  یہ  نمی   کیوں  ہے

چمن    میں کون   آیا  ہے
کلی اک کِھل گئی کیوں ہے

نظر کو  کون    سمجھائے
حسن میں سادگی کیوں ہے

 دلِ  صادق  گواہی    دے
زباں پر پھر نہیں کیوں ہے

 یقینًا   وہ   منائیں    گے
پتا ہے برہمی کیوں   ہے
 
ادا گر حق    نہیں    ہوتا
محبت تم نے کی کیوں یے
 
کوئی مجنوں سے جو پوچھے
مقدر  عاشقی   کیوں     ہے
 
پلٹ   کر  وہ    بولے    گا
رُخِ لیلٰی  حسیں  کیوں  ہے
 
یہ  زلفوں  کی   گھٹا   ٹوپی
بدن وہ مرمریں کیوں  ہے
 
 کیا سمجھیں گے عقل والے
عشق پہ ذور نہیں کیوں ہے
 
وفائیں کرنے  والوں   کو
یہ دنیا روکتی  کیوں  ہے
 
جفائیں   کرنے   والوں    کو
کھلی چھوٹ مل گئی کیوں ہے
 
اُدھر  تو   التفائے     خاص
اِدھر یہ بے رُخی کیوں ہے 
 
ارے ظالم  بتا   مجھ   کو
نوازش عارضی کیوں ہے
 

بہت   ہیں     آشنا      میرے
ذھن میں بس تو ہی کیوں ہے

بچھڑ کر  آپ   جاتے   ہیں
تو پھر یہ زندگی کیوں ہے
 
آسماں   تو     دشمن    تھا
زمیں تنگ ہو گئی کیوں ہے
 
جگا  کر  رات  بھر  ہم  کو
یہ قسمت سو گئی  کیوں ہے
 
غم و حسرت کے جنگل میں
جوانی کھو گئی  کیوں ہے
 
حقیقت       آشکار      ہوئی
نظر پھر جُھک گئی کیوں ہے

اگر اصلا ح ہی مقصد ہے
طریقہ سازشی  کیوں ہے

صلاح تم کرنے آئے ہو
تو لہجہ آتشی کیوں ہے
 
طرف داری جو شیوہ یے
تو پھر یہ ثالثی  کیوں ہے
 
کسی کا دکھ نہ بانٹے گر
بتا پھر آدمی  کیوں  ہے

 
خدا کے نیک   بندوں   پر
حیات اتنی کڑی کیوں ہے

صدیوں سے اور نسلوں سے
مصیبت کی گھڑی کیوں ہے

جو نعمت ہے جو راحت ہے
وہ دور اتنی کھڑی کیوں ہے

ہوا  کیا   ہے   شاعر   کو
زمانے کی پڑی کیوں ہے

یہ کیوں ہے وہ کیوں   یے
سوالوں کی جھڑی کیوں ہے

ہوا      ہے    معاذ     دیوانہ
زباں پر بس کیوں ہی کیوں ہے

Posted in غزل | تبصرہ چھوڑیں

دروازہ کھلا رکھنا

یہ نطم 21 جولائی 1992 کو لکھی گئی تھی جب ایک دوست ملک سے ہجرت کر رہا تھا

پردیس کے اے راہی
بے چین سے اے ماہی
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا
مانا کے اندھیرا ہے
ابھی دور سویرا ہے
اور دل کے دریچوں میں
مایوس بسیرا ہے
پر سحر بھی آئے گی
نئی جوت جگائے گی
اس سحر کے آنے تک
آنکھوں میں تم اپنی
کچھ دیپ جلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

بن کھلے ہی مرجھانا
بن ملے ہی کھو جانا
فطرت کے تقاضوں سے
یوں کبھی نہ ٹکرانا
ایسا جو کہا تم نے
پھر پڑے گا پچھتانا
اوروں کی خوشی خاطر
غم اپنے بھلا رکھنا
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

یہ سفر جو لمبا ہے
اکیلے نہیں کٹ سکتا
دنیا کے مقابل کوئی
تنہا نہیں ڈٹ سکتا
ہو جس میں کوئی ساجھا
ہے کام وہی اچھا
اپناؤ جسے پاؤ
مخلص ہے اور سچا
اک “گھر” کی خواہش کو
تم دل میں بسا رکھنا
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

Posted in نظم | Tagged , | تبصرہ چھوڑیں