کچھ پرانی نظمیں

ھم نے تم کو یاد کیا

March 25, 1993

یہ تم نے کیسے سوچ لیا
کہ سب کچھ ہے تبدیل ہوا
اوروں کی تم نہ بات کرو
اوروں سے اپنا کیا رشتہ
ہم اب بھی ویسے پاگل ہیں
کیا تم ہو جو تبدیل ہوے؟

وہ یاد جو ہم کو پیاری ہے
ہم اس کو کیسے چھوڑ سکیں؟
جو وعدہ ہم نے خود سے کیا
ہم اس کو کیسے توڑ سکیں؟
وہ شام جو اپنا سرمایا
ہم اس کو کیسے بھول سکیں؟

ہو قربت میں یا دور رہو
اور ملنے سے مجبور رہو
ناراض رہو یا راضی ہو
اور ھم سے کوئی نہ بات کرو
ھم پھیر بھی تم کو مانیں گے
کچھ اپنا اپنا جانیں گے

مایوس ہیں ہم ، اور آس بھی ہے
ایک غم ہے اپنے پاس بھی ہے
جو من کو تھوڑا راس بھی ہے
ہاں ہھ کو یہ احساس بھی ہے
تم کیوں کر ہم سے روٹھ گئے؟
کچھ بندھن تھے جو ٹوٹ گئے

افسوس کہ تم نہ جان سکے
کچھ ہم کو نہ پہچان سکے
جب غم چھایا ہے شام ڈھلے
جب محفل میں کوئی بات چلے
جب وقت نے ہے ناشاد کیا
تو ہم نے تم کو یاد کیا
جب دل نے ہے فریاد کیا
تو ہم نے تم کو یاد کیا
———————————————————————————————————

محبت , محبت , محبت

4/15/1993

یک دن نفرت نے کہا یہ محبت سے
میں ہی دنیا پہ راج کرتی ہوں
زباں ، زمیں، طبقہ ، گروہ، رنگ و نسل
میں تقسیم در تقسیم سماج کرتی ہوں
ازل سے کام میرا دلوں کی دوری ہے
میں جو کل کرتی تھی آج کرتی ہوں

کیا ہے تسلیم سب ہی نے میری قوت کو
پلٹ کے رکھ دیتی ہوں اک آن میں حکومت کو
مجھے انسانون کو لڑانے میں مزا آتھا ہے
فروغ دیتی ہوں ہر آن میں عداوت کو
خود غرضی ، غلط فہمی، مکاری و عیاری
عبور کون کر سکتا ہے میری رکاوٹ کو

میں ایک حقیبت ہوں ، تو ایک دھوکا ہے
میں نے تیری ہر ادا کو روکا ہے
تیرا اس زمانے میں پنپنا مشکل ہے
مجھے میرس چالوں سے کب کسی نے ٹوکا ہے
لالچ، فریب ،دھوکا،  کینہ و حسد
ادھر تو دیکھ میرا ہر روپ انوکھا ہے

سن کے یہ ساری باتیں نفرت کی
محبت زیرلب مسکرا دی
یہ بولی پھر وہ نفرت سے
رب نے دی تجھ کو جو آزادی
کیوں آپ اپنی حقیبت بھول گئی
سمجھنے لگی ہے اپنے کو شہزادی

تجھے خدا نے میری پہچان کے لیے بنایا
رہا ہے خوش وہی جس نے مجھے پایا
میں ہی انسان کی  اصل  فطرت  ہوں
جو  مجھے  بھول  گیا  وہ  ہے  پچھتایا
زندگی کی نعمتوں  سے  دور   رہا
مجھے چھوڑ کر جس نے تجھے اپنایا

میری وجہ سے دنیا کا وجود باقی ہے
میرے  علاہ  یہاں سب    اضافی  ہے
اٹھایے ہون جس نے تیرے دئیے دکھ برسوں
اس کے لیے تو میرا اک بول ھی کافی ھے
تیرے دئیے زخموں کا میں ہی مرہم   ھوں
ہاں میرے پاس ہر  درد کی   تلافی   ہے

محبت کو دوام حاصل ہے نفرت عارضی سے ہے
کوئی مانے یا نہ مانے محبت  لازمی   شے   ہے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم and tagged . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s