میری پہلی نظم — وقت

وقت میری پہلی نظم ہے یہ نظم میں نے جون 1991میں لکھی تھی

وقت وقت کی باتیں ہیں
وقت نے بتائی ہیں
وقت نے سکھائی ہیں

وقت ایک سمندر ہے
وقت بہتا دریا ہے
وقت کے بہتے دریا میں
زندگی کی کشتی کو
پار گر لگانا ہے
ٹوٹ کر بکھرنا یے
ڈوب ڈوب جانا ہے

وقت ایک جنگل ہے
خواہشیں درندے ہیں
الفتوں کا جادو ہے
آرزو کے پھندے ہیں
آرزو کے پھندوں میں
صدیوں کے قیدٰ ہیں
قید سے رہائی تو
موت سے ہی ملتی ہے

وقت ایک الاؤ ہے
وقت دل کا گھاؤ ہے
وقت کی تپش سے سب
ٴخواہشیں پگھلتی ہیں
خوابوں میں ڈھلتی ہیں
خوابوں کی تعبیریں
کہاں سب کو ملتی ہیں
اور اگر ملتی ہیں
کب سچی ہوتی ہیں
سب جھوٹی ہوتی ہیں

وقت ایک جوانی ہے
وقت ایک بڑھاپا ہے
وقت کی طوالت کو
کب کسی نے ناپا ہے
وقت ازل ابد بھی ہے
وقت نیک اور بد بھی ہے
وقت بے حساب ہے
وقت کی ایک حد بھی ہے
وقت کے زخموں کا
ٴوقت خود ہی مرھم ہے
وقت سے خوش ہے جو
وقت ہی پہ برھم ہے

وقت ہی نے تم کو معاذ
اس قدر اجاڑا ہے
اس قدر بگاڑا ہے
تم اگر یہ چاہتے ہو
زندگی سنور جائے
دل کا زخم بھر جائے
اور وقت ٹہر جائے
وقت سے صلح کر لو
وقت سے نباہ کر لو

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in Uncategorized, نظم and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s