شاعری کا جواب شاعری

آج فراز کا ایک قطعہ نظروں سے گزرا.  اس کے جواب میں چند شعر فوری  طور  پر  ذھن میں آئے
 
فراز نے لکھا 
گئے رتوں میں ، شام و سحر نہ تھے ایسے
ہم     اداس     تھے   مگر   نہ  تھے ایسے
فراز اب کے عجب آگ سی وجود میں  ہے
کہ دل پر زخم تو تھے آبلے نہ تھے ایسے

احمد فراز

جواب کچھ یوں ہے

یہ  اداسی  تم  پر جو چھائی  ہے
تمہاری    اپنی    ہی  کمائی  ہے
 
تمہارے وجود میں جو ہے موجود
وہ آگ تم نے خود ہی تو لگائی ہے
 
دل کے سب زخم عزیز  ہیں تم  کو
یہ  بات   دل نے  میرے  بتائی ہے
 
آگ کے زخم پر  آبلے تو  ہو ں گے
پھر یہ کس  بات   کی   دھائی   ہے
 
جل   رہے  تھے  آگ  میں خود ہی
ساری  دنیا  کاہے  کو  جلائی  ہے
 
معاذ  خاموش   بے  وجہ  نہیں  رہتا
افشائے راز  میں  جگ  ھنسائی ہے
 ————————————————————–

کسی شاعر نے کہا
کبھی رستے میں مل جاو تو یونہی کترا کے گزر جانا
ہمیں یوں تکنا    کہ جیسے    پہچانا    ہی    نہیں    ہے
ہمارا    ذکر    آئے    تو    یوں    انجان    بن       جانا
کہ جیسے نام سن کر بھی ہمیں جانا    نہیں    تم    نے
 
جواب
زمانے کے اصولوں کا کچھ تیری رسوائی کا ڈر ہے
رہتا   ہے کیا  میرے دل  میں کہاں  تجھ کو خبر ہے
رستے   میں  کہیں  تجھ کو  اکیلے  میں  جو  پا لیں
ہاتھوں  کو  تیرے   چوم  کر  آنکھوں  سے   لگا لیں
 
——————————————————————————
ناصر زیدی نے کہا
دونوں طرف تھی لُوٹ برابر لگی ہوئی
جو کچھ کسی کے ہاتھ لگا    لُوٹتا    رہا
زیدی وہ لُوٹتے رہے میرے قرار   کو
 میں بے قراریوں    کے مزے لوٹتا رہا
 
جواب
وہ بے    قراریوں    کے مزے لوٹتا    رہا
میں سو قرار پا    کے    بھی    ٹوٹتا    رہا
ایک دامنٍ صبر کا  جو تھا آسرا    مجھے
اُ سے قریب دیکھ کے وہ بھی چھوٹتا رہا
 ———————————————————————————————————-
 
فراز کا شعر
کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوائے جا
فراز اور اسے حالِ    دل    سنائے   جا
 
جواب
حال دل اپنا سنا کر اتنے پشیماں کیوں ہو
محبت کے  اظہار سے  آبرو نہیں جاتی
              

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in شاعری. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s