عید کا چاند

اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا  وہ    سُونا   چاند

برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا  اپنا  رستا   چاند

ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہوگیا   کتنا    سستا   چاند

نارتھ امریکہ شور بہت تھا
لیکن کس نے  دیکھا   چاند

جب امت  ہو  ٹکڑے  ٹکڑے
کیسے ایک ہو اس کا چاند

سب کی اپنی اپنی مسجد
سب  کا  اپنا  اپنا  چاند

یونٹی  کیا  ہے  میری   مانو
کیسی عید اور کہاں کا چاند

ایک شہر میں دو  دو  عیدیں
دیکھ کے ہنستا  ہو گا  چاند

معاذ سے پوچھو تو وہ بولے
گھر  میں  میرے  میرا  چاند

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s