سینے پہ ہے بوجھ اتنا

7/17/2011
سینے پہ ہے بوجھ اتنا ، کوئی من میرا کوٹے ہو
شیشہ   نہیں یہ دل ہے ، پتھر سے  جو ٹوٹے ہو

دیوانے کی آنکھوں میں دو ھی تو مناظر ھیں
یا  جشن بہاراں  ہو  یا قید  سے  چھو ٹے ہو

فریاد  کسے بھیجیں  ، کہاں  داد  رسی  پائیں
 شھر  کے  لوگوں کو  حاکم  ہی جو  لوٹے ہو

ایک  بار  نہیں  تم  کو  سو  بار  منائیں  گے
معلوم  تو ہو  ہم کو کس بات  پے روٹھے ہو

دل میں جو تعلق ہے ھونٹوں پے نہیں کیوں ہے
یا دل ہے جو جھوٹا ہے ، یا تم ہو جو جھوٹے ہو

آج  اس سے  مجھے  مل کر معاذ کیوں لگتا ہے
کوئی خواب سا بکھرا ہو ، کوئی مان سا ٹوٹے ہو

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل and tagged , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s