زندگی

یہ نظم 20 سال پرانی ہے

میں نے پوچھا زندگی سے
تو کیو ں اس قدر کتھن ہے
کہ جس میں ہر سو کانٹے
کیو ں ایسا ایک چمن ہے
کہ جو آگ سب جلا دے
وہی تیرا پیرھن ہے
مگر پھر بھی سب کو پیاری
تجھے چاہے دنیا ساری
جس سے بچ سکا نہ کوئی
ٴتیری ضرب ایسی کاری
اور ہے بے وفا تو ایسی
کہ ہے موت تجھ پہ بھاری
آج اس کی گر اجل ہے
تو کل ہے اس کی باری
جسے تو نے آزمایا
نہ کہیں تھکانہ پایا
تو نے اس قدر ستایا
ہوا دور اس سے سایا
وہ قدم قدم مصیبت
کہ سکوں کہیں نہ پایا
کہا زندگی نے ہنس کر
تجھے کیا خبر اے ناداں
کی کیا ہے میری فطرت
میں اسی کے لیے مشکل
مجھے چاہا جس نے بے حد
وہی سب کے ایک خدا نے
مجھے امتحاں بنایا
کیا بتاؤں میں تجھ کو
میرا راز کس نے پایا
سب اپنے غم بھلا کر
اوروں کا دکھ بٹایا
خلق خدا کی خاطر
جو کچھ تھا سب گنوایآ

میں تلخ ایک حقیقت
میں خواب ایک سہانا
پھولوں کا نرم بستر
کانٹوں کا آشیانا
ایک بات بہت اہم ھے
اس کو نہ بھول جانا
نہ زر کبھی ہے جیتا
نے زور ظالمانہ
جو دلوں کو فتح کر لے
وہی فاتح زمانہ
ہاں اس نے مجھ کو سمجھا
جس نے یہ راز جانا
ہے زندگی کا مقصد
اوروں کے کام آنا

ٴٴ


About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s