جنم دن

یہ نظم جون 1991 میں لکھی گئی

ایک بار یونہی میرے
دل میں یہ خیال آیا
لوگوں کو ہوا کیا ہے
اس بات پر ہیں خوش ہوتے
کہ ان کی عمر فانی کا
ایک سال ہوا کم ہے
آیا جو جنم دن ہے

یہ دن بھی عجب شے ہیں
آتے ہیں اور جاتے ہیں
خود لمحوں سے بنتے ہیں
ماہ و سال بناتے ہیں
سالوں پر محیط اپنا
پل بھر کا یہ جیون ہے
پل بھر کے اس جیون کی
لمبی سی کہانی میں
کچھ لوگ تو ایسے ہیں
کہ جن سے تعلق کا
ہر دن ہی اہم دن ہے
ایسا ہی جنم دن ہے

تب یوں میرے دل نے
مجھ کو یہ سمجھایا
اے معاذ یہ تم جانو
افراد کے دم سے
بس دنوں کو پہچانو

دن سب ہی یکساں ہیں
ہاں فرد حقیقت ہے
ہاں فرد ہی سب کچھ ہے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s