وطن سے دور عید

یہ نظم میں نے عید کے موقع پر ایک دوست کو عید کارڈ پر لکھ کر دی

برسوں سے ہم سنتے تھے
کہ عید خوشی کو کہتے ہیں
وہ لوگ بھی کیا خوش ہوتے ھیں
جو دور وطن سے رھتے ھیں

وہ شھر نہیں ، جذبات نہیں
وہ دوست نہیں، وہ ساتھ نہیں
وہ چاند نہیں ، وہ رات نہیں
پہلی سی اب کوئی بات نہیں

جب یاد سبھوں کی آتی ہے
دو آنسو آنکھ سے بہتے ہیں
کیا عید اسی کو کہتے ہیں؟

پر دل نے یہ سمجھایا ہے
کہ یاد توایک سرمایا ہے
اور دور وطن سے رہ کر بھی
جب یاد کسی کی آتی ہے
دو پھول سے دل میں کھلتے ہیں
ہم دیر تلک خوش رہتے ہیں
ہاں عید اسی کو کہتے ہیں

4/6/1992

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s