دروازہ کھلا رکھنا

یہ نطم 21 جولائی 1992 کو لکھی گئی تھی جب ایک دوست ملک سے ہجرت کر رہا تھا

پردیس کے اے راہی
بے چین سے اے ماہی
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا
مانا کے اندھیرا ہے
ابھی دور سویرا ہے
اور دل کے دریچوں میں
مایوس بسیرا ہے
پر سحر بھی آئے گی
نئی جوت جگائے گی
اس سحر کے آنے تک
آنکھوں میں تم اپنی
کچھ دیپ جلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

بن کھلے ہی مرجھانا
بن ملے ہی کھو جانا
فطرت کے تقاضوں سے
یوں کبھی نہ ٹکرانا
ایسا جو کہا تم نے
پھر پڑے گا پچھتانا
اوروں کی خوشی خاطر
غم اپنے بھلا رکھنا
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

یہ سفر جو لمبا ہے
اکیلے نہیں کٹ سکتا
دنیا کے مقابل کوئی
تنہا نہیں ڈٹ سکتا
ہو جس میں کوئی ساجھا
ہے کام وہی اچھا
اپناؤ جسے پاؤ
مخلص ہے اور سچا
اک “گھر” کی خواہش کو
تم دل میں بسا رکھنا
دروازہ کھلا رکھنا
کرنوں پہ نگاہ رکھنا

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s