چھوٹا سا فسانہ

یہ نظم 1991 میں لکھی گئی

بے  نام   تعلق   کا   چھوٹا   سا   فسانہ   ہے
اس دنیا میں جو آیا ہے ایک دن اسے جانا ہے
چند  سانس  جو  باقی  ہیں  جینے  کا بہانا ہے
عقل  تو سمجھی ہے دل  نے  کہاں  مانا  ہے
اس بے وفا دنیا سے اب دور ہی   جانا   ہے

کہتے ہیں جب آنکھ اوجھل ، ہوتے ھیں پہاڑ اوجھل
بچھڑی ہوئی یادوں سے ، کیوں آج ہوا من بوجھل
اے  دل  دیوانہ   کہیں   اور    نہ   اب   لے   چل
یادوں  کے دریچوں  میں  اس کو   ابھی  آنا  ہے
اس  بے وفا  دنیا سے اب  دور  ہی   جانا   ہے

یہ وقت بڑا ظالم  ہے ، ہر بات   بھلاتا  ہے
ھوں کتنی ہی شدت کے ، جذبات سلاتا ہے
جب  یاد  کوئی  آئے ، بے تاب  رلاتا  ہے
اس وقت کے ہاتھوں میں، مجبور زمانہ ہے
اس بے وفا دنیا سے اب دور ہی جانا ہے

یہ اس سے کوئی پوچھے، جس نے ہیں غم جھیلے
غیروں سے تو شکوہ کیا ، اپنوں کے ستم جھیلے
کس طور کہا  ان  کو ، کس  ذات  کے دم  جھیلے
کیا  اس  کے  دکھوں کا  اب  کوئی  ٹھکانا  ھے
اس  بے وفا  دنیا  سے  اب  دور  ہی  جانا  ہے

ہے میری دعا یارب ، خوش اس کو صدا رکھنا
عمر میری بھی دے دینا ، آنکھوں میں حیا رکھنا
وہ پیار کی  شمع  ہے ، لو  اس  کی  جلا  رکھنا
اس معاذ کا پوچھیں  کیا ، اپنوں  سا  بیگانہ  یے
اس  بے وفا  دنیا  سے  اب  دور  ہی  جانا  ہے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s