سرد ھوا

یہ غزل 15 جون 2011 کو لکھی گئی

ایک سرد ھوا کا جھونکا تھا، جو آ کر یونہی چلا گیا
ایک درد سا دل میں اٹھا تھا، تڑپا کر  یونہی چلا گیا

میں جس بستی سے گزرا تھا،وہ دیوانوں کی بستی تھی
میں بستی کے ہر کوچے میں، گبھرا کر  یونہی چلا گیا

میں اپنا ماضی بھولا تھا، یادیں کیا تھیں راکھ کا ڈھیر
ایک لمحہ تھا جو شعلوں کو، بھڑ کا کر  یونہی چلا گیا

مجھے اس کا غم کہ اس کا درد، میں پہلے کیوں نہ جان سکا
وہ شخص تو اپنے دل کے زخم،  دکھلا  کر  یونہی چلا  گیا

جب اتنی عمر گزاری ہے، باقی بھی کاٹ لے یاد میں معاذ
وہ کان میں میرے  چپکے سے، سمجھا کر  یونہی چلا گیا

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s