والدین

یہ کہانی میں نے 15 سال پہلے سب رنگ ڈائیجسٹ میں پڑہی تھی۔ اس کو منظوم کرنے کا خیال چند ہی دنوں پہلے آیا۔ اس نظم کا عنوان ہے “والدین”۔
 

ایک قصّہ مجھے سنانا ہے
کہنے کو بہت پرانا ہے
کچھ سچا ہے، کچھ جھو ٹا ہے
لیکن پھر بھی اس قصّے نے
میرے دل کو لوٹا ہے

ایک دور دراز سے قصبے میں
آخری گلی کے نکّڑ پر
ایک چھوٹا سا گھر تھا
اس چھوٹے سے گھر کے باہر
ایک پرانا برگد تھا
اور سامنے ریل گزرتی تھی

اس چھوٹے سے گھر میں ایک لڑکا
ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا
اور اُ ن دونوں کی بے جا سختی
اپنی دانست میں سہتا تھا
ماں باپ کا وہ اکلوتا
روز ہی ڈانٹیں سنتا تھا
اور اُن کی ضد کے آگے
سر کو اپنے دھنتا تھا

یہ کام کرو، وہ کام کرو
یہ صبح کرو ، وہ شام کرو
بے وقت نا آرام کرو

وہ لڑکا خود بھی ضدی تھا
اور اپنی ضد میں پکّا تھا
ماں باپ کو خوب تنگ کرتا تھا
یوں پھر سختی بڑھتی گئی
اور اُن کی دوری بڑھتی گئی

روز کی بک بک جھک جھک سے
وہ لڑکا آخر تنگ آ ہی گیا
اور اُس نے یہ پھر سوچ لیا
بہتر ھے گھر سے بھاگ چلوں
ماں باپ کے نام پھر خط چھوڑا
اُس خط میں اُس نے یہ لکھا
اس گھر میں اب اپنے لیے
کوئی جگہ نہیں پاتا ہوں
میں اب شہر کو جاتا ہوں

نگری نگری گھوموں گا
میں ساری دنیا دیکھوں گا
کہیں کوئی ٹھکانا پاؤں گا
لوٹ کر اب نہ آؤں گا
اپنی مرضی کا مالک ہوں
اب میں پورا بالغ ہوں

یوں پھر اس لڑکے نے
اپنے گھر کو چھوڑ دیا
بستی سے وہ بھاگ گیا

نئے دور کا پھر آغاز ہوا
اور افشاء اس پر یہ راز ہوا
جینا کتنا مشکل ہے
روز مرنا کس کو کہتے ہیں
زندہ رہنے کی خاطر
کیا کیا اس نے کام کیے
دو وقت کی روٹی پانے کو
کس کس کی اس نے منّت کی
پھٹکار پڑی، دھتکار پڑی
جانے کیسے کیسے لوگوں کی
بے وجہ ہی اس کو مار پڑی

کبھی درخت کے نیچے لیٹا تھا
کبھی بس کے اندر سوتا تھا
ماضی کو اپنے یاد کیے
چھپ چھپ کر پھر وہ روتا تھا
کئی برس یونہی بیت گئے
وقت تھا جیسے روٹھ گیا
پھر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا
اور اندر سے وہ ٹوٹ گیا

کچھ سوچ بچار کے بعد اس نے
ماں باپ کے نام ایک اور خط لکھا
اس خط میں اس نے یہ لکھا
گھر سے باہر آکر میں
جانے کیسے زندہ ہوں
اپنی اس حرکت پر
دل سے میں شرمندہ ہوں
مشکل سے ہمُت پاتا ہوں
میں گھر واپس آنا چاہتا ہوں

پر مجھ کو یہ معلوم نہیں
آپ دونوں کی کیا مرضی ہے
اب آپ اگر یہ چاہتے ہیں
میں گھر میں واپس آ جاؤں
تو گھر کے باہر برگد پر
اک سرخ سا کپڑا لٹکا دیں
میں ریل میں بیٹھ کر آؤں گا
اور گھر کے سامنے برگد پر
گر یہ نشانی پاؤں گا
تو اسٹیشن پر اتروں گا
اور گھر کو واپس آجاؤں گا
ورنہ اپنا ماضی بھول کر میں
گھر کو  کبھی نہ لوٹوں گا

وہ دن بھی  آخر آ ہی گیا
کہ ریل میں بیٹھ کر وہ لڑکا
بستی کی جانب چل نکلا
جوں جوں فاصلہ گھٹتا تھا
دل اس کا بیٹھا جاتا تھا
وہ کھڑکی کے با ہر دیکھنے کی
ہمّت کچھ نہ پاتا تھا

ماں باپ میرے اب کیسے ھیں؟
کیا مجھ کو اب بھی چاہتے ہیں؟
اور اپنے دل میں میرے لیے
کیا کوئی جگہ وہ پاتے ہیں؟
کیا اب تک وہ برگد ہو گا؟
کیا اس پہ سرخ کپڑا ہو گا؟
اور اگر ہوا بھی تو
کیا اس کو دیکھ بھی پاؤں گا؟
یہ سب وہ سوچتا جاتا تھا
دل اس کا گبھراتا تھا

بالاخر اُس ریل نے جب
لمبا سا ایک موڑ لیا
تو ریل میں بیٹھے لوگوں نے
اک عجب نرالا منظر دیکھا
اُس دور دراز سے قصبے میں
ایک چھوٹا سا گھر تھا
اور گھر کے باہر برگد تھا
اس برگد کی ہر ہر ٹہنی پر
ایک سرخ پھریرا لہراتا تھا
اور اس برگد کے نیچے
ایک بوڑھا اور بوڑھی
ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دئیے
گزرتی ریل کے ہر ہر ڈبّے کو
حسرت سے تکتے جاتے تھے
July  18 , 2011

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s