دل میرا کٹ گیا ہے ریشم سے

 انٹرنیٹ پر ایک شعر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس شعر کی بنیاد پر ایک غزل حال ہی میں مکمل کی ہے۔

شعر کچھ اس طرح ہے

 

 

شعر کچھ اس طرح ہے

دل   میرا  کٹ  گیا ہے ریشم سے
اس کو سی دو کسی نئے غم سے

  میری غزل

 تو   نے جو پھر سے کیا  ترک تعلق ہم سے
جیتے جی مر جائیں گے ہم خدا کی قسم سے

 تم   نہیں   پاس  تو  جینے  کا مزا ساتھ نہیں
کم  نہیں  اپنے  لیے یہ دنیا  بھی  جہنم  سے

 رات  کی  ٹھنڈی  ہوا  یاد  کو  سلگاتی  ہے
اور  آگ  لگ  جاتی  ہے  صبح  شبنم سے

  اجنبی  اک سر راہ آ کے مجھے ایسے ملا
جیسے واقف ہو میرا کوئی پچھلے جنم سے

 وہ  برھمن  بھی   توحید  کا قائل  ہونے لگا
ہاتھ  کچھ  نہ آیا  جسے  پتھر کے صنم سے

 ہم  کو  دکھ  کے  کوچے  کا پتا معلوم نہ تھا
تم  کیا  گئے  کہ روٹھ  گئیں خوشیاں ہم سے

 لٹ   گئی   دنیا  میری  ہو   گیا  سُونا    آنگن
گھرمیں جو رونق  تھی، تھی تمھارے دم سے

 اپنا  خیال کیجئے  ، معاذ کی  فکر چھوڑئے حضور
وہ خوش ہی نہیں خوشحال بھی ہے الّلہ کے کرم سے


About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s