شدّتِ غم تھی یا دیوانگی تھی

یہ غزل 24 جولائی 2011 کو مکمل کی گئی

شدّتِ غم تھی یا دیوانگی تھی، وہ وقتِ  رخصت بے اختیار  روئے
بڑی   مشکل   سے   قرار   آیا ، ہو کے پھر سے بے   قرار  روئے

کہا تھا ہم نے نہیں  سناؤ  کسی کو دکھ  بھری  داستاں  ہماری
بڑا ہی ناز  تھا   ضبط   پہ   جن    کو،   سنا   تو  زارو قطار  روئے

ہنسے  جو  وہ  تو ہر سُو  نغمہ، تپتا   صحرا   بنے   ہے   گلشن
مگر  روئے   تو  فضا  ہو  غمگیں ، چمن      روئے     بہار    روئے

نہ جانے چوٹ کسے لگی  ہے، کون ہے جو  لطف  اٹھا رہا   ہے
میں ہنستا جاتا ہوں زخم  کھا کر، چلا کے مجھ  پہ وہ وار  روئے

مانا کہ بہت مشکل گھڑی ہے، اب ایسی بھی کیا آفت پڑی ہے
غمِ جاناں  ہو  یا  غمِ زمانہ ، ذھن    پر    کر کے    سوار   روئے

زمانہ  بگڑتا  ھی  جا رہا   ہے،  اب  ایسا    وقت   آ گیا    ہے
حشر  ہوا  وہ  انسانیت    کا ،    فرشتے    لیل و نہار    روئے

بہت  برا   ہے معاذ   لیکن،  خدا   سے   نا  امید     نہیں     ہے
اسے جو  موقع ملے کبھی بھی ، اپنے گناہوں  پہ  شرمسار  روئے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in Uncategorized, غزل and tagged , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s