اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشاں ہوں میں

اپنے  قاتل کی  ذہانت سے پریشاں  ہوں  میں
روز   ایک  موت   نئے  طرز  کی   ایجاد   کرے
اس کی مٹھی میں بہت روز سے ہے میرا وجود
میرے  ساحل سے  کہو اب  مجھے  آزاد  کرے

——————————————–

اپنے  قاتل کی ذہانت پر  پریشانی کے کیا معنی؟
وہ  تو  کہتا کہ تُو ہے جو قتل ہونے کی فریاد کرے

روز  نئے انداز  سے  مرنا  ہے  تمہارا   اپنا  شیوہ
کہا تھا کس  نے  تجھے، اس طرح  اُسے یاد کرے

کہہ گیا ساحل , سمندر سے  یہ  سرگوشی  میں
چھیڑ کر اپنی موجوں سے مت میرا وقت برباد کرے

تو  اگر  قید  میں  ہے  تو   مقید   ہوں   میں   بھی
مسئلہ   یہ  ہے  کہ  اب   کون   کسے  آزاد   کرے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in شاعری. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s