دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد  یا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا

حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

دن گزرا تھا بڑی مشکل سے
پھر تیرا وعدئے شب یاد آیا

بیٹھ کر سایہ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

ناصر کاظمی


اپنی   بربادی   کا    سبب    یاد   آیا
وہ ایک فرد مجھے تشنہ لب  یاد  آیا

وہ جو رخصت ہوا تو دل میں درد کی
اتنی   شدّت   تھی  کہ  رب  یاد  آیا

ایک میں ہوں اُسے یاد کیے رویا برسوں
ایک وہ  ہے  جسے  میں  کب  یاد  آیا؟

رات بے چین تھی، بڑی بے خوابی تھی
جانے کون  تھا وہ جو  کل  شب  یاد   آیا

کھو کے پانا اُسے اور پا کے پھر کھو  دینا
یاد   کرنے  لگا   اُسے  تو  سب  یاد   آیا

ہے گناہ گار بہت، ہے  خطا کار  بہت
معاذ جانے لگا دنیا سے تو تب یاد آیا


About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s