فیض کی زمین میں ایک غزل – گلوں میں رنگ….

کسی اور طرف  کیسے  یہ  دلِ بے قرار چلے
نکلنے والے سارے  رستے  ہی کوئے  یار  چلے

بزم میں کوئی اور  موضوع پلٹ کر  نہیں  آتا
ِچھڑے جب  اُس  کا   ذکر   تو   بار  بار   چلے

 ہو بات زلفوں کی، قامت کی ، انداز تکلم  کی
پھر  اُس  کے  بعد  نازکئ   لب و  رخسار  چلے

اُس اک نظر سے پرہیز گاروں کے دِل پگھلتے ہیں
عجب ادا سے وہ آنکھوں میں لیے  خمار  چلے

جہاں بھی جائے وہ, ھرسمت پھول کِھل جائیں
سنگ اپنے  رنگ  لیے ، تعاقب   میں  بہار   چلے

طلب ہو جاں کی ہماری، کبھی  آواز تو  دو
سر پہ باندھے کفن  آئیں  گے دیوانہ وار  چلے

حشر میں دیکھتے ہی  رہ گئے   پارسانِ حرم
چلے جو بہشت کی  جانب ہم  گناہ  گار  چلے

عمر بھر منتظر رہی معاذ کی نگاہ جن کے لیے
آئے ہیں لاش پر  اب  وہ  میری،  سوگوار   چلے

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s