دیوانگی

کل رات پورا چاند  تھا ، ہر شے  پہ  تھی  دیوانگی
غم نے نہیں سونے دیا، کچھ ایسی تھی دیوانگی

دیکھا اسے، چاھا اسے، چپ ہی رہے ، کچھ نہ کہا
نظروں  سے وہ اوجھل ہوا ،  بڑھنے  لگی  دیوانگی

پوچھا جو میں نے زیست سے، کچھ تو بتا دکھ کا سبب
یہ سن کے وہ  ہنسنے لگی ، کہنے لگی  – “دیوانگی”

نقش قدم پر پاؤں ہون، میں دھوپ میں سایا بنوں
جو وہ کہے  میں  وہ کروں ، یہ ھے میری دیوانگی

محفل میں سب پوچھا کیے، مجھ سے میرا جب حال دل
میں تو وھاں  پہ  چپ  رہا  ، سب  کہہ  گئی  دیوانگی

جو کچھ بھی معاذ کہہ گیا، شاعری کے روپ میں
اھل خرد کی  آنکھ   میں  ، وہ  تو  نری  دیوانگی

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in غزل. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s