یار نہ سھی ، خیال یار سھی

یار نہ سھی ، خیال یار سھی
وصل نہ سھی، انتظار سھی
 
خزاں بھی نہیں مقدر میں
روٹھی رھے بہار سھی
 
اس کا دیا دکھ بھی ھے عزیز
غیر کتنے ھوں غم گسار سھی
 
دیکھ کر دل اس کو شاداں تھا
آنکھیں تھیں اشکبار سھی
 
ترک ھوتا نہیں یہ عشق اپنا
خود سے ھوں شرمسار سھی
 
منائیں گے ہر بار اس کو
روٹھے  وہ  بار بار  سھی
 
یا محبت یا موت منزل ھے
دلدار نہیں تو دار سھی
 
ھم اس کو بے وفا نہیں کہتے
دنیا   کہے    ھزار    سھی
صبر کا دامن کبھی نہ چھوڑے گا
معاذ کتنا  ھو  بے  قرار  سھی
()
ٴ

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in شاعری, غزل. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s