کانی ماں (کوریا کی ایک کہانی پر نظم ) –ماں کے عالمی دن پر

چلو سنائیں ایک کہانی
ایک بیوہ کی جو تھی کانی

اس کا بیٹا آنکھ کا تارا
ماں کا اپنی راج دلارا
غربت میں  وہ محنت کرتی
جھاڑو دیتی پانی بھرتی
بیٹا اس کا کچھ بن جائے
پڑھ لکھ لے اور عزت پائے

لیکن ماں کے کانے پن سے
بیٹاشرماتا تھا  من سے

ایک دن ماں اسکول جو آئی
ہو گئی اس کی جگ ہنسائی
شام کو بیٹا ماں سے بولا
سب کہتے ہیں ماں ہے کانی
لگتی ہے دجال  کی نانی
کیوں کر بس ایک آنکھ ہے تیری؟
کیوں نہ ٹھیک  ہیں؟ جیسے میری
دیکھ کے تیری ایسی صورت
سب کو ہوجاتی ہے نفرت
کرتی  ہو مجھ کو شرمندہ
ذلت میں ہو کیسے  زندہ؟

سن کے یہ سب تلخ سی باتیں
ماں اس کی ایک لفظ نہ بولی
بیٹے کے سونے کے بعد
چپکے سے وہ رات میں رولی

چھپ چھپ کر وہ آہیں بھرتی
بیٹے کی وہ خدمت کرتی
لمحے گزرے سالوں بیتے
اس انداز میں جیتے جیتے
لڑکے نے تعلیم کی خاطر
گاؤں کو چھوڑا شھر میں آیا
ماں کو اپنی چھوڑ کے پیچھے
نہ وہ رویا نہ پچھتایا
پڑھ لکھ کےپھر  بڑا بنا وہ
شادی کرلی،  گھر بسایا
شھر کی رنگینی میں پڑ کر
لوٹ کے گاؤں کبھی نہ آیا
اس کے اپنے بچے ہو گئے
ان کو ماں سے نہیں ملایا

اک دن یوں ہی صبح سو یرے
دروازے پر دستک ہوئی
کھولا دیکھا ماں تھی در پر
لیے کھڑی تھی گھٹری سر پر
دیکھ کر اس کی ماں کو پوتی
ڈر کر چیخ کر اندر  بھاگی
بیٹا پھر یہ ماں سے بولا
کیوں آئی ہو مجھے جلانے
میں اور میرے بچے خوش ہیں
کیوں آئی ہو ہمیں ستانے
اپنا دکھڑا نہیں سناؤ
گاؤں کو اپنے واپس جاؤ

ماں یہ بولی ٹھیک ہے بیٹا
تجھ کو ڈھونڈا، .تجھ کو دیکھا
اس دنیا میں خوش جو پایا
دل کو میرے چین ہے آیا
واحد آنکھ کے آنسو پی کر
بوجھے دل سے گاؤں کو لوٹی.

گاؤں سے  ایک دن قاصد آیا
ساتھ میں اپنے چٹھی لایا
بیٹے سے وہ یہ پھر بولا
تیری ماں نے مرتے مرتے
مجھ کو بس ایک کام دیا تھا
یہ خط تیرے نام دیا تھا

سامنے اس کے خط رکھا تھا
اس کی ماں نے یہ لکھا تھا
میرے بیٹے میری جان
ماں تجھ پہ ہو قربان
خود کو تنہا پاتی ہوں میں
اس دنیا سے جاتی ہو ں میں
اس دنیا سے جاتے جاتے
تجھ کومیں ایک راز بتاؤں؟
اپنے دل کا زخم دکھاؤں؟

تو چھوٹا تھا،  اک دن ہم سب
پکنک پر ایک رات گئے تھے
بس میں بیٹھ کر ساتھ گئے تھے
یکدم بس کی ہو گئی ٹکر
اس دن تیرا باپ مرا تھا
تو بھی زخمی ساتھ دھرا تھا
ایک تیری ہڈی تھی ٹوٹی
اور تیری ایک آنکھ بھی پھوٹی
وقت تھا وہ بھی کتنا ظالم
میں نگوڑی ثابت سالم
میں نے اس وقت سوچ لیا پھر
میرا بیٹا کیوں ہو کانا
دو آنکھوں سے دنیا دیکھے
ہو وہ پیارہ ہو وہ دانا

میں تو ماں ہوں میرا کیا ہے
بس ایک آنکھ سے جی لوں گی میں
اپنے ہونٹ کو سی لوں گی میں
تیرا دکھ بھی جھیلوں گی میں

کر کے کچھ لوگوں کو بھیدی
میں نے اپنی آنکھ تھی  دے دی
اس دن سے پھر، میں ہوں کانی
لگتی ہوں دجال کی نانی

میرے بیٹے. میرے لال
تو جیے ہزاروں سال
میں تجھ سے ناراض نہیں ہوں
پیار سے اپنے باز نہیں ہوں
تیرے بچے تجھ سے خوش ہیں
تو جو خوش ہے میں بھی خوش ہوں

میرا کیا ہے،  میں تو ماں ہوں
بس ایک آنکھ سے جی لوں گی میں
خون کے گھونٹ بھی پی لوں گی میں
دکھ ہے تیرا جھیلوں گی میں

About MAAZ SIDDIQUI

میرا پورا نام معاذ المساعد صدیقی ہے. میں 1998 سے نیو یارک میں رھائش پذیر ھوں اور سٹی گورنمنٹ کے ایک ادارے Department of Social Services میں ڈائریکٹر (MIS & Reporting ) کے طور پر کام کرتا ہوں. 1987 میں N. E. D. یونیورسٹی کراچی سے مکنیکل انجینئرنگ میں BS اور 2005 میں City Univercity New York سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے
This entry was posted in نظم, شاعری. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s